حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ الْبَلَدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ، نا أَيُّوبُ بْنُ خَالِدٍ الحراني ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُلْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَسَارَ لَيْلا ، فَمَرُّوا عَلَى رَجُلٍ جَالِسٍ عِنْدَ مُقْرَاةٍ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صَاحِبُ الْمُقْرَاةِ ، أَوَلَغَتِ السِّبَاعُ اللَّيْلَةَ فِي مُقْرَاتِكَ ؟ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا صَاحِبُ الْمُقْرَاةِ ، لا تُخْبِرْهُ هَذَا مَكْلَبٌ ، لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا بَقِيَ شَرَابٌ وَطَهُورٌ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے، آپ رات بھر چلتے رہے، آپ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، جو تالاب کے کنارے بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے تالاب والے شخص! کیا تمہارے اس تالاب میں گزشتہ رات درندوں نے پانی پیاتھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”اے تالاب کے مالک! تم اسے اس بارے میں نہ بتاؤ، یہ شخص احتیاط پسند ہے، ان درندوں نے جو پی لیا وہ ان کا ہوا اور جو باقی بچ گیا، وہ ہمیں مشروب کے طور پر مل گیا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 34
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 34، 35»