سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلانِ بِرَجُلٍ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَشَهِدَا عَلَيْهِ بِالسَّرِقَةِ فَقَطَعَهُ ، ثُمَّ جَاءُوا بِآخَرَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالا : هُوَ هَذَا غَلَّطَنَا بِالأَوَّلِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ شَهَادَتَهُمَا عَلَى الآخَرِ ، وَغَرَّمَهُمَا دِيَةَ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُكُمَا " .شعبی بیان کرتے ہیں: دو آدمی ایک شخص کو لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان دونوں نے اس شخص کے بارے میں یہ گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا، پھر وہ دونوں آدمی ایک اور شخص کو لے کر آئے اور بولے: ”پہلی مرتبہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی، یہ اصل چور ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس دوسرے شخص کے بارے میں ان کی گواہی کو قبول نہیں کیا، اور پہلے شخص (کے ہاتھ کو ضائع کرنے) کی دیت کی ادائیگی ان پر لازم کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ پتا ہو کہ تم نے جان بوجھ کر (پہلے شخص کا ہاتھ کٹوا دیا تھا)، تو میں تم دونوں کے بھی ہاتھ کٹوا دیتا۔“