سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدَنِيِّ ، نَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي خَلادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ ، فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْلِسْ ، فَانْتَهَرَهُ ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ ، قَالَ : وَمَا حَدُّكَ ؟ ، قَالَ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَمِنْهُمْ عَلِيٌّ ، وَعَبَّاسٌ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ ، وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تُجْلَدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا ، فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَاحِبَتُكَ ؟ ، قَالَ : فُلانَةُ ، لامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَدَعَاهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : كَذَبَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيَّةٌ ، اللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شُهَدَاؤُكِ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا ، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ أَنْ تَكُونَ خَابَثْتَهَا ، فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا ، وَإِلا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي شُهُودٌ ، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ جَلْدَةً " .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، بنو لیث بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص وہاں آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کریں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ آپ نے اسے ڈانٹا، تو وہ بیٹھ گیا، وہ پھر کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کریں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھ پر حد جاری کر دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کون سا قابل حد (جرم کا ارتکاب کیا ہے)؟“ اس نے عرض کی: ”میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام صحبت کی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے، جن میں سیدنا علی، سیدنا عباس، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، فرمایا: ”اسے لے جا کر کوڑے لگاؤ۔“ بنو لیث سے تعلق رکھنے والا وہ شخص شادی شدہ نہیں تھا، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! آپ اس عورت کو کوڑے کیوں نہیں لگواتے جس کے ساتھ اس نے گناہ کیا ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے کوڑے لگاؤ، پھر میرے پاس لے کر آؤ۔“ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تمہاری ساتھی عورت کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”فلاں عورت۔“ اس نے بنو بکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس بارے میں دریافت کیا، وہ بولی: ”اس نے جھوٹ کہا ہے، اللہ کی قسم! میں تو اسے جانتی بھی نہیں ہوں، اور اس نے جو الزام لگایا ہے، میں اس سے بری ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا: ”اس بارے میں تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ تم نے اس عورت کے ساتھ گناہ کیا ہے، کیونکہ یہ عورت تو اس بات کی انکاری ہے کہ تم نے اس کے ساتھ کوئی گناہ کیا ہے؟ اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے، تو میں اس عورت کو کوڑے لگواؤں گا، اور اگر تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، تو میں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی سزا کے طور پر کوڑے لگواؤں گا۔“ اس شخص نے کہا: ”یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد کے طور پر اسی کوڑے لگائے گئے۔