سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو عُثْمَانَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ، .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات چھین کر قتل کر دیا، اس یہودی نے اس لڑکی کو پتھر مار کر قتل کیا، جب اس لڑکی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو اس میں زندگی کی رمق موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے سے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے کے ذریعے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری مرتبہ اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ تو اس نے سر کے اشارے سے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھوا کر کچل کر اسے قتل کروا دیا۔