حدیث نمبر: 3348
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ أَبُو عُثْمَانَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا ، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا ، أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : أَقَتَلَكِ فُلانٌ ؟ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ لا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " ، .
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات چھین کر قتل کر دیا، اس یہودی نے اس لڑکی کو پتھر مار کر قتل کیا، جب اس لڑکی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو اس میں زندگی کی رمق موجود تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے سے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے جواب میں سر کے اشارے کے ذریعے کہا: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری مرتبہ اس سے دریافت کیا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ تو اس نے سر کے اشارے سے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھوا کر کچل کر اسے قتل کروا دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3348
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744 ، 4745 ، 4746 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»