سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، يَزْعُمُ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ جَلَدَ رَجُلا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ لَهُ ، وَلَمْ يُطَلِّقْهَا الْعَبْدُ ، كَانَتْ تَحْتَ الْعَبْدِ ، وَقَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فِي رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدًا مِنَ امْرَأَةٍ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ اعْتَرَفَ بِهِ وَهُوَ فِي بَطْنِهَا ، حَتَّى إِذَا وُلِدَ أَنْكَرَهُ ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً لِفِرْيَتِهِ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَلْحَقَ بِهِ وَلَدَهَا " .قبیصہ بن ذوہیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سو کوڑے لگوائے، جس نے اپنی ایک ایسی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی، جو ایک غلام کی بیوی تھی، اور اس غلام نے اسے طلاق نہیں دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں فیصلہ دیا تھا، جس نے ایک عورت کے بچے (کا اپنی اولاد ہونے) کا پہلے انکار کیا، وہ بچہ اس وقت اس عورت کے پیٹ میں تھا، پھر اعتراف بھی کر لیا، وہ بچہ اس وقت بھی اس عورت کے پیٹ میں تھا، جب وہ بچہ پیدا ہوا، تو اس شخص نے پھر اس کا انکار کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس نے عورت پر جو الزام لگایا ہے، اس کی سزا میں (حد قذف کے طور پر) اسے اسی کوڑے لگائے جائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بچے کا نسب اس عورت کے ساتھ لاحق کر دیا۔