سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3336
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ سَمْعَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ : ثُمَّ لِيَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ ، وَالضَّفِيرُ هُوَ الْحَبْلُ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی کنیز زنا کا ارتکاب کرے اور اس کا زنا ثابت ہو جائے، تو وہ شخص اس کنیز کو حد کے طور پر کوڑے مارے، لیکن زبانی طور پر برا نہ کہے۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”پھر وہ اسے فروخت کر دے، خواہ بالوں سے بنی ہوئی رسی کے عوض میں فروخت کرے۔“ اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ، ضفیر، سے مراد رسی ہے۔