حدیث نمبر: 3327
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، نَا زَائِدَةُ ، نَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا رَبَّكُمْ ، وَاضْرِبُوا أَرِقَّاءَكُمْ إِذَا زَنَوْا ، مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ ، " فَإِنَّ وَلِيدَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغَتْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَهَا ، فَأَتَيْتُهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثَةُ عَهْدٍ بِالنِّفَاسِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي خَشِيتُ أَنَّهَا تَمُوتُ إِنْ أَنَا ضُرِبْتُهَا ، فَأَدَعُهَا حَتَّى تَبَرَّأَ ثُمَّ أَضْرِبُهَا ؟ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ " ،.
محمد محی الدین

ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور تمہارے غلام یا کنیزیں اگر زنا کا ارتکاب کریں، تو ان کو (کوڑے) مارو، خواہ وہ محصن ہوں یا محصن نہ ہوں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اسے کوڑے ماروں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کنیز کے پاس آیا، تو اس کے نفاس (یعنی بچے کو جنم دینے) کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے، تو وہ مر جائے گی، میں واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اگر میں نے اسے مارا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مر جائے گی، میں اسے رہنے دیا، جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی، پھر اسے کوڑے ماروں گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: [أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1705
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1705، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8199، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7201، 7227، 7228، 7229، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4473، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1441، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3326، 3327، 3328، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 690»
«»