حدیث نمبر: 3326
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ دِينَارٍ بِمِصْرَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : نَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَدَتْ مِنْ زِنًا ، قَالَ : " فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، قَالَ : فَإِذَا هِيَ لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا وَلَمْ تَطْهُرْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا ، قَالَ : فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَقَالَ : أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ، تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكٌ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ وَأَبُو وَكِيعٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى.
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز نے زنا کے نتیجے میں بچے کو جنم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں اس پر حد جاری کروں۔“ اس کنیز کی حالت یہ تھی کہ ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا تھا، اور وہ پاک نہیں ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا، اور یہ پاک نہیں ہوئی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، تو اس پر حد جاری کرنا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں پر) حد قائم کرو۔“ شعبہ، اسرائیل، شریک، ابراہیم بن طہمان، اور ابووکیع نے عبدالاعلی کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں متابع کی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: [إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1705، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8199، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7201، 7227، 7228، 7229، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4473، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1441، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3326، 3327، 3328، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 690»
« قال ابن الملقن : في إسناده عبد الأعلى بن عامر الثعلبي قال فيه أحمد وأبو زرعة ضعيف الحديث ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 627)»