سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ دِينَارٍ بِمِصْرَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : نَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَدَتْ مِنْ زِنًا ، قَالَ : " فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ ، قَالَ : فَإِذَا هِيَ لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا وَلَمْ تَطْهُرْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا ، قَالَ : فَإِذَا طَهُرَتْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ وَقَالَ : أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " ، تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكٌ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ وَأَبُو وَكِيعٍ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى.سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز نے زنا کے نتیجے میں بچے کو جنم دیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں اس پر حد جاری کروں۔“ اس کنیز کی حالت یہ تھی کہ ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا تھا، اور وہ پاک نہیں ہوئی تھی، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ابھی اس کا نفاس ختم نہیں ہوا، اور یہ پاک نہیں ہوئی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، تو اس پر حد جاری کرنا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے زیر ملکیت (غلاموں اور کنیزوں پر) حد قائم کرو۔“ شعبہ، اسرائیل، شریک، ابراہیم بن طہمان، اور ابووکیع نے عبدالاعلی کے حوالے سے اسے نقل کرنے میں متابع کی ہے۔