حدیث نمبر: 3301
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ، فَقَالَ لَهُ السَّائِلُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَمَعَهُ أَبُو سَلَمَةَ ؟ ، فَقَالَ : إِنْ كَانَ مَعَهُ فَهُوَ مَعَهُ ،.
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: ”جانور کا زخمی کرنا (یا اس کے نتیجے میں آدمی کا مرجانا) رائیگاں جائے گا، کنویں میں گر کر مرنا رائیگاں جائے گا، معدنیات کی کان میں گر کر مرنا رائیگاں جائے گا، اور رکاز میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ ایک شخص نے ان سے سوال کیا: ”اے ابومحمد، کیا ان کے ساتھ ابوسلمہ بھی تھے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اگر وہ ان کے ساتھ ہوتے، تو ان کے ساتھ (ذکر بھی) ہوتے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3301
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1499، 2355، 6912، 6913، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1710، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 536 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2326، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6005،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2497، برقم: 2498، برقم: 2499، برقم: 2500، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3085، 4593، 4594، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 642، 1377، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2509، 2673، 2676، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3301، 3302، 3303، 3304، 3307، 3312، 3497، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1110، 1111، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7241»