سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلانٍ قَدْ زَنَتْ ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا ، فَرَدَّهَا عَلِيُّ ، وَقَالَ لِعُمَرَ : أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ ، عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، فَخَلَّى عَنْهَا " .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر فلان قبیلے کی پاگل عورت کے پاس سے ہوا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے لے کر واپس آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایسا پاگل، جس کی عقل مغلوب ہو چکی ہو، سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے، اور بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔’“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ نے ٹھیک کہا ہے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔