حدیث نمبر: 3259
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ مَطَرٍ ، حَدَّثَهُمْ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ ، وَقَالَ : أَنَا أَكْرَمُ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہد (ذمی) کے بدلے میں مسلمان کو قتل کروا دیا تھا، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ اپنی دی ہوئی پناہ کو پورا کروں۔“ اس روایت کو صرف ابراہیم بن ابویحییٰ نے مسند کے طور پر نقل کیا ہے، یہ شخص متروک الحدیث ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت ابن بیلمانی کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے، ابن بیلمانی ضعیف ہے، ایسی روایت کو بھی حجت قرار نہیں دیا جا سکتا، جسے اس نے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہو، چہ جائیکہ وہ روایت جو اس نے مرسل کے طور پر نقل کی ہو، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3259
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16022، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3259»
«قال البيهقي: أخطأ راويه عمار بن مطر على إبراهيم في سنده ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 272)»