سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّهَاوِيُّ ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ مَطَرٍ ، حَدَّثَهُمْ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهَدٍ ، وَقَالَ : أَنَا أَكْرَمُ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ " .سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاہد (ذمی) کے بدلے میں مسلمان کو قتل کروا دیا تھا، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ”میں اس بات کا سب سے زیادہ حق دار ہوں کہ اپنی دی ہوئی پناہ کو پورا کروں۔“ اس روایت کو صرف ابراہیم بن ابویحییٰ نے مسند کے طور پر نقل کیا ہے، یہ شخص متروک الحدیث ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت ابن بیلمانی کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے، ابن بیلمانی ضعیف ہے، ایسی روایت کو بھی حجت قرار نہیں دیا جا سکتا، جسے اس نے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہو، چہ جائیکہ وہ روایت جو اس نے مرسل کے طور پر نقل کی ہو، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔