حدیث نمبر: 3249
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كِتَابَانِ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عُتُوًّا فِي الأَرْضِ ، رَجُلٌ ضَرَبَ غَيْرَ ضَارِبِهِ ، وَرَجُلٌ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، وَرَجُلٌ تَوَلَّى غَيْرَ أَهْلِ نِعْمَتِهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ، فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلا عَدْلا ، وَفِي الآخَرِ : الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ، وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ " ، مُخْتَصَرٌ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضے میں یہ دو باتیں پائی گئی تھیں: ”زمین میں سب سے زیادہ نافرمان شخص وہ ہے، جو اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی دوسرے کو مار دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) جو اپنے قتل کرنے والے کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے، اور وہ شخص جو اپنے آقا کی بجائے خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرے، جو شخص ایسا کرے گا، اس نے گویا اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا، اللہ ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ (دوسری بات یہ ہے:) اہل ایمان کی جان یکساں حیثیت کی حامل ہے اور ان کے عام فرد کی دی ہوئی پناہ کا احترام کیا جائے گا، کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، اور کسی معاہد (ذمی) کو قتل نہیں کیا جائے گا اور دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔“ (یہ روایت مختصر ہے)۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3249
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8116، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16020، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3249، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4757، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1548، 1555، 1793، 1903»
«قال البيهقي: ليس فيها شيء على شرط الصحيح ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 188)»