سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِكَ جُنُونٌ ؟ ، قَالَ : لا ، قَالَ : أَحْصَنْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے کا ایک فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے بارے میں یہ گواہی دی (کہ وہ زنا کر چکا ہے)، تو نبی نے فرمایا: ”کیا تم مجنون ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے عیدگاہ میں سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے، وہ بھاگا، لیکن لوگ اس تک پہنچ گئے اور اسے سنگسار کر دیا گیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے الفاظ ذکر کیے، تاہم آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔