سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا ، فَقَالَتْ : " إِنِّي حُبْلَى ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِلَيْهَا ، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا ، فَفَعَلَ ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا ؟ ، فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا " ، .سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، اس نے بتایا: ”میں حاملہ ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا: ”اس کا اچھی طرح خیال رکھنا، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ اس عورت کو لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت) سے فرمایا: ”تم جاؤ اور بچے کو دودھ پلاؤ۔“ اس عورت نے ایسا ہی کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر کپڑوں کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے پہلے اسے سنگسار کیا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ اہل مدینہ میں ستر افراد کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی، کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا شخص کوئی مل سکتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“