حدیث نمبر: 3237
نَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ مَعَهُ ، فَقُلْنَا لابْنِ عَبَّاسٍ : مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ عَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، وَلَكِنْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ ، أَوْ يُنْتَفَعُ بِهَا ، وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے، اسے قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی مار دو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس سے کہا: ”جانور کا کیا قصور ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو نہیں سنے، تاہم میرا خیال ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے کوئی نفع حاصل کیا جائے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 885، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 220، 221، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8139، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7300، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4462، 4464، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1455، 1456، 1462، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2561، 2564، 2568، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3234، 3236، 3237، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2459»
«قال يحيى بن معين : منكر ، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»