سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو عُمَرَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو الْجَوَّابِ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بِشِرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ قَدْ فَجَرَتْ ، فَرَدَّهَا حَتَّى وَلَدَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ ، قَالَ : ائْتُونِي بِأَقْرَبِ النِّسَاءِ مِنْهَا ، فَأَعْطَاهَا وَلَدَهَا ثُمَّ جَلَدَهَا وَرَجَمَهَا ، وَقَالَ : جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَرَجَمْتُهَا بِالسُّنَّةِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُعِيَ عَلَيْهَا وَلَدُهَا أَوْ كَانَ اعْتِرَافٌ ، فَالإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ، ثُمَّ النَّاسُ ، فَإِنْ نَعَتَهَا شُهُودٌ ، فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ ، ثُمَّ النَّاسُ " .شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے شرحہ ہمدانیہ (نامی عورت) کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس بھیج دیا کہ وہ پہلے بچے کو جنم دے، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کی سب سے قریبی رشتہ دار خاتون کو میرے پاس لاؤ۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا بچہ اس خاتون کو دے دیا، اس عورت کو پہلے کوڑے لگوائے، پھر سنگسار کروایا اور فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور سنت کے حکم کے تحت اسے سنگسار کیا ہے۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو عورت ناجائز بچے کو جنم دے یا اعتراف کر لے، تو اسے پہلے امام پتھر مارے گا، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے، لیکن جس عورت کا جرم گواہوں کے ذریعے ثابت ہو، اسے پہلے گواہ پتھر ماریں گے، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے۔“