سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُس عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَءًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَنِينِ ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ ، يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ ، فَجَرَحَتْ ، أَوْ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودٍ ظَلَّتْهَا ، فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذِهِ الْقَضِيَّةَ لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ . قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ فَرَسٍ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے پیٹ میں موجود بچے (کو قتل کیے جانے) کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ سنا ہے۔“ تو سیدنا حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کھڑے ہوئے اور بولے: ”اے امیر المؤمنین! میں دو عورتوں (یعنی دو سکنوں) کے درمیان تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کر اس دوسری عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے کی (دیت) ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ اکبر! اگر ہم یہ حدیث نہ سنتے، تو مختلف فیصلہ دیتے۔“