سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا : نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ ، عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ فَرَسٍ أَوْ بَغْلٍ ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ : أَعْقِلُ مَنْ لا أَكَلَ وَلا شَرِبَ ، وَلا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ فِيهِ غُرَّةٌ ، عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ میں موجود بچے (کو ضائع کر دینے) کا تاوان ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر کی ادائیگی مقرر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فریق کے خلاف فیصلہ دیا تھا، ان کے ایک فرد نے کہا: ”کیا میں اس کی دیت ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، کوئی آواز نہیں نکالی، وہ رویا نہیں، اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو شاعروں کی طرح گفتگو کر رہا ہے، اس بارے میں ایک غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر تاوان کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔“