سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3202
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، " قَتَلَ أُمَّ قِرْفَةَ الْفَزَارِيَّةَ فِي رِدَّتِهَا قِتْلَةً مُثْلَةً ، شَدَّ رِجْلَيْهَا بِفَرَسَيْنِ ثُمَّ صَاحَ بِهِمَا فَشَقَّاهَا ، وَأُمُّ وَرَقَةَ الأَنْصَارِيَّةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهَا الشَّهِيدَةَ ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَتَلَهَا غُلامُهَا وَجَارِيَتُهَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَتَلَهُمَا وَصَلَبَهُمَا " ،.محمد محی الدین
سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ام قرفہ فزاریہ نامی عورت کو مرتد ہونے کی وجہ سے مثلہ کے طور پر قتل کروا دیا تھا، انہوں نے اس کے دونوں پاؤں دو گھوڑوں سے بندھوا کر اس کے دو ٹکڑے کروا دیے تھے۔ سیدہ ام ورقہ انصاریہ، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شہیدہ“ کا نام دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس خاتون کے غلام اور کنیز نے اسے قتل کر دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو مصلوب کروا کے قتل کروا دیا۔