سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْعَبْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالا : نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، نَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَقَعُ فِيهِ ، فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي ، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ ، فَقَتَلَهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ الأَعْمَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَنَا صَاحِبُهَا ، كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ ، فَأَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي ، وَأَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، وَلِيَ مِنْهَا ابْنَانِ مثل اللُّؤْلُؤَتَيْنِ ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةُ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص، جس کی ام ولد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، اس شخص نے اس عورت کو منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئی، اس شخص نے اس عورت کو ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہ آئی، ایک رات جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ گفتگو کرنے لگی، تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کر دیا، صبح اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو وہ نابینا شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اس عورت کا مالک ہوں، وہ آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، میں نے اسے روکا، لیکن وہ باز نہیں آئی، میں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئی، میرے اس عورت سے دو بچے ہیں، جو دونوں موتیوں کی طرح ہیں، وہ میری رفیقہ (محبوبہ) تھی، گزشتہ رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، تو میں نے اسے قتل کر دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“