سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَتَى بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ ؟ ، قَالَ : مَا حُدِّثْتَ عَنِّي ؟ ، قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ ، فَقَالَ : أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ " ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا تَقُولُ فِيهِ ؟ ، فَتَكَلَّمَ بِكَلامٍ خَفِيَ عَلَيَّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : طَئُوهُ ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي : مَا قَالَ ؟ ، قَالَ : الْمَسِيحُ رَبُّهُ " .عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس بنو عجل کا ایک شخص مستورد بن قبیصہ لایا گیا، جو اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تمہارے بارے میں مجھے کیا بتایا گیا ہے؟“ اس نے دریافت کیا: ”آپ کو میرے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم عیسائی ہو گئے ہو۔“ اس نے کہا: ”میں سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں بھی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تم ان (یعنی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو اس شخص نے جو جواب دیا، وہ مجھے سمجھ نہیں آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”اسے قتل کر دو۔“ اسے قتل کر دیا گیا (راوی کہتے ہیں:) میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: ”اس نے کہا تھا: سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام اس کے پروردگار ہیں۔“