سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا ، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلا ، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ؟ ، فَقَالُوا : مَا قَتَلْنَا وَلا عَلِمْنَا قَاتِلا ، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكُبْرَ الْكُبْرَ ، فَقَالَ لَهُمْ : تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ ، فَقَالُوا : مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ، قَالَ : فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ ، قَالُوا : لا نَرْضَى أَيْمَانَ الْيَهُودِ ، وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، .بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی، جن کا نام سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے یہ بات بتائی، وہ اپنے قبیلے کے کچھ افراد کے ہمراہ خیبر گئے، وہاں وہ لوگ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہوں نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا، تو جن لوگوں کے پاس انہوں نے مقتول کو پایا تھا، ان لوگوں سے انہوں نے کہا: ”تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیوں کیا ہے؟“ تو وہ لوگ بولے: ”ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کے بارے میں علم ہے۔“ پھر یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے، وہاں ہم نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس بارے میں ثبوت پیش کرو کہ کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (وہ یہودی) قسم اٹھا لیں (اور بری الذمہ ہو جائیں گے)۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم یہودیوں کے قسم اٹھانے پر راضی نہیں ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے، اس لیے آپ نے خود زکوٰة کے اونٹوں میں سے ایک سو اونٹ دیت کے طور پر ادا کیے۔