سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَمْ أَكُنْ لأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَكُنْتُ أقْتُلُهُمْ ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا ، فَقَالَ : وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ . هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ.عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتد ہونے والے کچھ لوگوں کو جلا دیا، اس بات کی اطلاع سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: ”میں ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاواتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’اللہ کے عذاب دینے کے طریقے کی طرح (یعنی آگ میں جلا کر) کسی کو عذاب (یعنی سزا) نہ دو۔‘“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں ان لوگوں کو قتل کروا دیتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’جو شخص اپنا دین (یعنی اسلام) تبدیل کر لے، اسے قتل کر دو۔‘“ راوی بیان کرتے ہیں: اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے فرمایا: ”ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ستیاناس ہو۔“ یہ روایت ثابت ہے اور صحیح ہے۔