سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ ، أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ ، وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ ، أَوْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ ، فَإِنِّي أَمْضَيْتُهَا لأَهْلِهَا كَمَا كَانَتْ " ،.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ (میں داخل ہوئے)، سیڑھی پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، اپنے بندوں کی مدد کی، اسی نے (کفار کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! قتل خطاء کا مقتول وہ ہے، جسے لاٹھی یا عصا کے ذریعے مارا گیا ہو، اس کی دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہو گی، جس میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، زمانہ جاہلیت کی ہر ترجیحی وجہ، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون کا بدلہ اور مال کی ادائیگی میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں انہیں کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے (دو چیزوں کے) خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت، میں انہیں متعلقہ لوگوں کے لیے برقرار رکھتا ہوں، جیسے یہ پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تھیں۔“