سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو سَلَمَةَ ، نَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ تُعَدُّ أَوْ تُدْعَى تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلا السِّدَانَةَ وَالسِّقَايَةَ ، أَلا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا " ، يَعْنِي مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ،.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اس نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی (اور فضیلت) سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم قرار دیتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گے)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے (کسی کو مارا گیا ہو)، اس کی دیت مغلظہ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“ (راوی کہتے ہیں:) یعنی اس کی دیت سو اونٹ ہے۔