سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالا : نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ بِشْرٌ : وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، قَالَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ ، صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تُعَدُّ وَتُدْعَى وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، غَيْرَ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ ، أَلا وَإِنَّ فِي قَتِيلِ خَطَأِ الْعَمْدِ ، قَتِيلِ السَّوْطِ ، وَالْعَصَا مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا " ،.عقبہ بن اوس ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ نے یہ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے اپنے وعدے کو سچ ثابت کیا، اسی نے اپنے بندے کی مدد کی، اسی نے (دشمنوں کے) لشکروں کو پسپا کیا، یاد رکھنا! ہر وہ چیز جو (معاشرے میں) بڑائی اور فضیلت سمجھی جاتی ہو اور شمار کی جاتی ہو، (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون (کا بدلہ) اور مال (یعنی ادائیگی) وہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں اسے کالعدم سمجھتا ہوں)، ماسوائے بیت اللہ کی خدمت کے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے (کیونکہ یہ فضیلت کا معیار ہوں گی)، یاد رکھنا! قتل خطاء شبہ عمدیہ ہے کہ لاٹھی یا عصا کے ذریعے کسی کو مارا گیا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہیں، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔“