سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَنَّاطِ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا قَتَلَ زَوْجِي ، فَقَالَ الابْنُ : إِنَّ عَبْدِي وَقَعَ عَلَى أُمِّي ، فَقَالَ عَلِيٌّ : خِبْتُمَا وَخَسِرْتُمَا ، إِنْ تَكُونِي صَادِقَةً يُقْتَلُ ابْنُكِ ، وَإِنْ يَكُنِ ابْنُكِ صَادِقًا نَرْجُمُكِ ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلصَّلاةِ ، فَقَالَ الْغُلامُ لأُمِّهِ : مَا تَنْظُرِينَ أَنْ يَقْتُلَنِي أَوْ يَرْجُمَكِ ؟ فَانْصَرَفَا ، فَلَمَّا صَلَّى سَأَلَ عَنْهُمَا فَقِيلَ : انْطَلَقَا " .میسرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور اس کی والدہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ عورت بولی: ”میرے اس بیٹے نے میرے شوہر کو قتل کر دیا ہے۔“ تو بیٹا بولا: ”(مقتول) میرا غلام تھا، جس نے میری ماں کے ساتھ زنا کیا۔“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم دونوں رسوا ہوئے اور خسارے کا شکار ہو گئے، (اے عورت!) اگر تم سچی ہو، تو تمہارے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا، اور اگر تمہارا بیٹا سچا ہے، تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، تو اس لڑکے نے اپنی والدہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے، یہ مجھے قتل کروا دیں گے یا آپ کو سنگسار کروا دیں؟“ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دونوں چلے گئے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے ان دونوں کے بارے میں دریافت کیا، تو بتایا: وہ دونوں جا چکے ہیں۔