سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ شَمْلَةً ، فَقَالَ : " أَسَرَقْتَ مَا إِخَالُهُ سَرَقَ ، قَالَ : بَلَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ ، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُبْ ، فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " ،.محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے واقعی چوری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ لگاؤ۔“ لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر اسے داغ لگایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم توبہ کرو۔“ وہ بولا: ”میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر لے۔“