حدیث نمبر: 3161
نَا عَبْدُ اللَّهِ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا هِشَامٌ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : رَجَمْتَهَا ، وَقَالَ : " لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ! " ،.
محمد محی الدین

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ”آپ نے اسے سنگسار کر دیا، (اور اب نماز جنازہ بھی ادا کر لی)؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مدینہ کے تمام افراد یہ توبہ کرتے، تو یہ ان سب کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے، جو اللہ کے لیے اپنی جان دے دے؟“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران ، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»