سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " حَمَلَتْ أَمَةٌ فِي بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الزِّنَا ، فَلَمَّا وَضَعَتْ قِيلَ لَهَا مِمَّنْ وَلَدُكِ ؟ ، قَالَتْ : مِنْ فُلانٍ ، إِنْسَانٌ نَضْوٌ مَمْسُوحٌ كَأَنَّهُ خَرْشَاءُ مِنْ ضَعْفِهِ ، فَسُئِلَ الْمَقْعَدُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : صَدَقَتْ هُوَ مِنِّي ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ ، وَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَيْئَةِ الرَّجُلِ وَأَنَّهُ لا مَضْرِبَ فِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا لَهُ عُثْكُولا ، يَعْنِي عَذْقًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً " ، فَفَعَلُوا.سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو ساعدہ کی ایک کنیز زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو اس سے پوچھا گیا: ”تمہارا بچہ کس کی اولاد ہے؟“ اس نے جواب دیا: فلاں کی۔ وہ (ملزم) ایک نحیف اور کمزور شخص تھا، کمزوری کی وجہ سے اس کی جلد سانپ کی طرح تھی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو وہ بولا: ”اس نے سچ کہا ہے، وہ بچہ میری اولاد ہے۔“ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے مارا نہیں جا سکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے شاخیں لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ ایک مرتبہ اسے مار دو۔“ تو لوگوں نے ایسا ہی کیا۔