سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3157
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كَانَ مَقْعَدٌ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ ، فَفَجَّرَ بِامْرَأَةٍ ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضْرَبَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس رہتے تھے، انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ زنا کیا، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت، انہیں کھجور کی شاخیں ماری گئیں۔ امام دار قطنی فرماتے ہیں: (اس روایت میں لفظ اکثال استعمال ہوا ہے)، لیکن درست لفظ اثکال (یعنی کھجور کی شاخیں) ہے۔