سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : إِنَّ أَعْمَى كَانَ يَنْشُدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ لَقِيتُ مُنْكَرَا هَلْ يَعْقِلُ الأَعْمَى الصَّحِيحَ الْمُبْصِرَا خَرَّا مَعًا كِلاهُمَا تَكَسَّرَا وَذَلِكَ أَنَّ الأَعْمَى كَانَ يَقُودُهُ بَصِيرٌ فَوَقَعَا فِي بِئْرٍ ، فَوَقَعَ الأَعْمَى عَلَى الْبَصِيرِ فَمَاتَ الْبَصِيرُ ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَقْلِ الْبَصِيرِ عَلَى الأَعْمَى " .موسیٰ بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو سنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کے موقع پر ایک شخص بلند آواز میں (یہ اشعار پڑھ رہا تھا): ”اے لوگو! ایک غلط صورت حال میرے سامنے آئی ہے، کیا ایک اندھا شخص ایک صحیح دیکھنے والے شخص کی دیت ادا کرے گا، جب کہ وہ دونوں ایک ساتھ گرے تھے اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔“ اس کی صورت یوں ہوئی کہ ایک بینا شخص اس اندھے کو ساتھ لے کر جا رہا تھا، وہ دونوں ایک کنویں میں گر گئے، تو وہ نابینا شخص اس بینا شخص کے اوپر گرا، جس کے نتیجے میں وہ بینا شخص فوت ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا: وہ نابینا اس بینا شخص کی دیت ادا کرے گا۔