سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ ، نَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي ، فَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَجَرُهَا ، وَلا تَحِلُّ سَقْطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ " ، الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ " إِمَّا أَنْ يُودِي ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ " ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلا الإِذْخِرَ " ، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، قَالَ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ الْوَلِيدُ : قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ : مَا قَوْلُهُ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، تو آپ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ میں ہاتھیوں کو داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں تھا، اور میرے لیے بھی دن کے کسی ایک مخصوص حصے میں حلال قرار دیا گیا، اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو اسے دیت ادا کر دی جائے، یا (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیا جائے۔“ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اذخر (نامی گھاس کاٹنے کی اجازت دیجیے)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔“ ابوشاہ نامی ایک صاحب جو یمن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔“ ولید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا: (سیدنا ابوشاہ کے) اس جملے سے مراد کیا ہے؟ یہ مجھے لکھوا دیں! تو انہوں نے فرمایا: یعنی وہ خطبہ جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔