حدیث نمبر: 3145
قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ مَكَّةَ ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا ، وَلا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا ، فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، ثُمَّ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قُلْتُمْ : هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ ، أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ ، أَوْ يَقْتُلُوا " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس میں خون نہ بہائے اور یہاں کے درخت نہ کاٹے، اگر کوئی شخص عذر پیش کرتے ہوئے یہ کہے کہ اللہ کے رسول کے لیے اسے حلال قرار دیا گیا تھا، تو اللہ نے اسے میرے لیے تھوڑے سے وقت کے لیے حلال قرار دیا تھا، اسے دوسرے لوگوں کے لیے حلال قرار نہیں دیا، میرے لیے بھی یہ تھوڑی سی دیر کے لیے حلال قرار دیا گیا، پھر قیامت قائم ہونے تک یہ حرم رہے گا، اے خزاعہ قبیلے کے لوگو! تم نے ہذیل قبیلے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، میں اس کی دیت دوں گا، میرے اس بیان کے بعد جن لوگوں کا کوئی شخص قتل ہو جائے، انہیں دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو وہ دیت وصول کر لیں (یا قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3145
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 104، 1832، 4295، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1354، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2879، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3845، 5815، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4504، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 809، 1406، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3145، 3146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16635»