حدیث نمبر: 3141
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ : " الرَّجُلُ يُصَابُ فِي الرِّمِّيَّا فِي الْقِتَالِ بِالْعَصَا ، أَوْ بِالسِّيَاطِ ، أَوْ بِالتَّرَامِي بِالْحِجَارَةِ يُودَى وَلا يُقْتَلُ بِهِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لا يَعْلَمُ مَنْ قَاتِلُهُ ، وَأَقُولُ : أَلا تَرَى إِلَى قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا أَنَّهُ لَمْ يَقْتُلْهَا بِهَا وَوَدَاهَا وَجَنِينَهَا " . أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ لَمْ يُجَاوَزْ طَاوُسٌ.
محمد محی الدین

طاؤس بیان کرتے ہیں: لڑائی کے دوران جس شخص کو عصا، لاٹھی، یا پتھر مار کر قتل کر دیا جائے، اس کی دیت ادا کی جائے گی، اس کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ پتہ نہیں ہے کہ اس کا قاتل کون ہے؟ میں یہ کہتا ہوں: کیا تم نے ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے مقدمے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ملاحظہ نہیں کیا، ان دو میں سے ایک خاتون نے دوسری کو لاٹھی مار کر قتل کر دیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول عورت کے بدلے میں قتل کرنے والی عورت کو قتل نہیں کروایا تھا، بلکہ آپ نے مقتول عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت دلوائی تھی۔ یہ حدیث طاؤس کے صاحبزادے نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3141
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16515، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3141، 3209، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 17200، 18339، 18340، 18342، 18344، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29698»