سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَرْفَعْهُ ، قَالَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ ، أَوْ رِمِّيَةٍ بِحَجَرٍ ، أَوْ بِسَوْطٍ ، أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ، مَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا اسے پتھر یا لاٹھی سے مار کر قتل کر دیا جائے، تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو عمداً قتل کیا جائے، اس کا قصاص لیا جائے گا، جو شخص اس قصاص میں رکاوٹ بنے گا، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔“