سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا بِحَجَرٍ ، أَوْ ضَرْبًا بِعَصًا ، أَوْ سَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ ، وَمَنْ قَتَلَ اعْتِبَاطًا فَهُوَ قَوَدٌ لا يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ ، فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلائِكَةِ ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ " .طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا پتھر سے مارا جائے، یا عصا یا لاٹھی کے ذریعے مارا جائے، تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہو گا، اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل نہیں ہوا جائے گا، جو اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل ہو گا، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہیں ہو گی۔“