سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3132
ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا فَهُوَ خَطَأٌ وَدِيَتُهُ دِيَةُ خَطَإٍ ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ ، مَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .محمد محی الدین
طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا (انجانے) تیر سے مارا جائے، وہ قتل خطاء شمار ہو گا، اور اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا گیا ہو، اس کا قصاص دینا لازم ہو گا، جو شخص اس میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا، اس شخص پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔“