حدیث نمبر: 3129
نَا حَمْزَةُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الأَسْكَافِيُّ ، قَالا : نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ ، قَالا : نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبِي ، عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " طَهِّرْنِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل ذَلِكَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ ، قَالَ لَهُ : مِمَّا أُطَهِّرُكَ ، قَالَ : مِنَ الزِّنَا ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ ؟ ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ ، فَقَالَ : أَشَرِبَ خَمْرًا ؟ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْهَكَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَثَيِّبٌ أَنْتَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ ، تَقُولُ فِرْقَةٌ : لَقَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ ، وَقَائِلٌ يَقُولُ : أَتَوْبَةٌ أَفْضَلُ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ : اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَلَبِثُوا عَلَى ذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَهِّرْنِي ، قَالَ : وَيْحَكِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : تُرِيدُ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ، قَالَتْ : إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا ، قَالَ : أَثَيِّبٌ أَنْتِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : إِذًا لا نَرْجُمُكِ حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ ، قَالَ : فَكَفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ ، فَقَالَ : إِذًا لا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَرَجَمَهَا " .
محمد محی الدین

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آ گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ واپس گئے اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آ گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی کی مانند فرمایا، یہاں تک کہ چوتھی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”میں کس چیز سے تمہیں پاک کروں؟“ انہوں نے عرض کی: زنا سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کیا جنون لاحق ہے؟“ تو آپ کو بتایا گیا: یہ مجنون نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس نے شراب پی رکھی ہے؟“ تو ایک شخص اٹھا، اس نے انہیں سونگھا، تو اسے شراب کی بو محسوس نہیں ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم شادی شدہ ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) ان کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ کا یہ کہنا تھا: ماعز اپنے سب سے برے عمل کے ذریعے ہلاکت کا شکار ہوئے، ان کے گناہ نے انہیں گھیر لیا۔ دوسرے گروہ کا کہنا تھا: کیا ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ ہو سکتی ہے؟ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس میں دیا اور عرض کی: آپ مجھے پتھروں کے ذریعے قتل کروا دیں۔ دو تین دن تک یہی صورت حال رہی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا، اور تشریف فرما ہوئے، پھر آپ نے فرمایا: ”ماعز بن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو، اللہ تعالیٰ ماعز بن مالک کی مغفرت کرے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ ایک امت (اس سے مراد گروہ بھی ہو سکتا ہے) کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ازد قبیلے کی شاخ غامد قبیلہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تم واپس جاؤ، اللہ سے مغفرت طلب کرو، اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اسی طرح واپس کرنا چاہتے ہو، جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ تو اس نے بتایا: وہ زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہم تمہیں اس وقت تک سنگسار نہیں کریں گے، جب تک تم اپنے پیٹ میں موجود (بچے کو) جنم نہیں دیتی۔“ پھر ایک انصاری شخص اس عورت کا سرپرست مقرر ہوا، یہاں تک کہ اس عورت نے بچے کو جنم دیا۔ وہ انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا: اس غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ہم اسے سنگسار نہیں کر سکتے، اور اس کے بچے کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے، اسے دودھ پلانے کے لیے کوئی نہ ہو۔“ تو ایک انصاری نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اس بچے کی رضاعت میرے ذمے ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو سنگسار کروا دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے، امام مسلم نے اسے ابوکریب کے حوالے سے، یحییٰ بن یعلی کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے غیلان سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3129
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1695،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8171، 8176، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7125، 7129،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4433، 4434، 4442، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2366، 2369 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3129، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23408»
«قال الدارقطني: هذا حديث صحيح ، سنن الدارقطني: (4 / 77) برقم: (3129)»