سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ : أَخْبَرَهُمْ " أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، قَالَ : أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، قَالَ : أَقِدْنِي ، فَأَقَادَهُ ، ثُمَّ عُرِجَ فَجَاءَ الْمُسْتَقِيدُ ، فَقَالَ : حَقِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا حَقَّ لَكَ " .محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے کی ٹانگ میں تیر مارا، تو دوسرا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوا دیا، پھر وہ (قصاص لینے والا شخص) ٹھیک نہ ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”میرا حق (مجھے دلوائیں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔“