سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا : نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِيدُ ، فَقِيلَ لَهُ : حَتَّى تَبْرَأَ ، فَأَبَى وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ ، قَالَ : فَعَنَتَتْ رِجْلُهُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّكَ أَبِيتَ " ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عُبْدُوسَ : مَا جَاءَ بِهَذَا إِلا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ . قَالَ الشَّيْخُ : أَخْطَأَ فِيهِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَخَالَفَهُمَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرٍو ، مُرْسَلا ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْهُ ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلا .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے شخص کے گھٹنے میں تیر مارا، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ قصاص (لینے کا مقدمہ) پیش کرے، تو اس سے کہا گیا کہ تم پہلے ٹھیک ہو جاؤ، اس نے یہ بات نہیں مانی، اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قصاص لے لیا، تو اس کی ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی، لیکن جس شخص سے قصاص لیا گیا تھا، اس کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی، (قصاص لینے والا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کچھ نہیں ملے گا، تم نے نافرمانی کی تھی۔“ شیخ ابواحمد بن عبدوس نامی راوی فرماتے ہیں: یہ روایت صرف ابوبکر و عثمان (یہ دونوں ابوشیبہ کے صاحبزادے ہیں) نے نقل کی ہے، شیخ فرماتے ہیں: ابوشیبہ کے دونوں صاحبزادوں نے اسے نقل کرنے میں غلطی کی ہے۔ امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین نے، ابن علیہ کے حوالے سے، ایوب کے حوالے سے، عمرو (بن دینار) سے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔ عمرو بن دینار کے شاگردوں نے اسے ان کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے، اور اس روایت کا مرسل ہونا محفوظ ہے۔