حدیث نمبر: 3114
نَا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، نَا الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا طَعَنَ رَجُلا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَقِدْنِي ، قَالَ : حَتَّى تَبْرَأَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَقِدْنِي ، فَأَقَادَهُ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَرَجْتُ ، قَالَ : قَدْ نَهَيْتُكِ فَعَصَيْتَنِي ، فَأَبْعَدَكَ اللَّهُ وَبَطَلَ عَرَجُكَ " ، ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ " .
محمد محی الدین

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے دوسرے شخص کے گھٹنے میں تیر مارا، وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے تم ٹھیک ہو جاؤ۔“ پھر (ٹھیک ہونے کے بعد) وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”آپ مجھے قصاص دلوائیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوا دیا، پھر وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں لنگڑا ہو گیا ہوں (تو آپ دوسرے فریق کو بھی زیادہ سزا دلوائیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں منع کیا تھا، تم نے میری بات نہیں مانی، اللہ تعالیٰ تمہیں دور کرے، تمہارا لنگڑا ہونا ضائع گیا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ زخمی کے ٹھیک ہونے سے پہلے اس کا قصاص لیا جائے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3114
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16217، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3114، 3121، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7155»