سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَوِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، أَوْ كِلاهُمَا ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى سورة البقرة آية 178 ، فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 ، قَالَ : وَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ فِي الْعَمْدِ الدِّيَةَ ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ سورة البقرة آية 178 يُتْبَعُ الطَّالِبُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيُؤَدِّي إِلَيْهِ الْمَطْلُوبُ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وأنا بِهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت کا حکم نہیں تھا۔ تو اللہ نے اس امت سے یہ فرمایا (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے): ”مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم کیا گیا ہے۔“ تو ”جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے معافی مل جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ معافی یوں ہو گی کہ دوسرا فریق قتل عمد میں دیت قبول کرنے میں راضی ہو جائے۔ ”بھلائی کی پیروی کرنا“ یعنی طلب گار شخص بھلائی کی پیروی کرے اور مطلوب شخص احسان کے ساتھ اسے ادائیگی کرے۔ ”یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (ملنے والی) تخفیف اور رحمت ہے۔“ یہی روایت مجاہد کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔