سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " مَاتَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَوَضَعْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَيْثُ يُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، ثُمَّ آذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعَنَا ، ثُمَّ خَطَّى ، ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلامُ لِعَلِيٍّ : عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا ؟ ، قَالُوا : نَعَمْ ، دِينَارَانِ ، فَتَخَلَّفَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُمَا عَلَيَّ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : هُمَا عَلَيْكَ وَفِي مَالِكَ ، وَحَقُّ الرَّجُلِ عَلَيْكَ ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُمَا بَرِيءٌ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : مَا صَنَعْتَ فِي الدِّينَارَيْنِ ؟ ، حَتَّى كَانَ آخِرُ ذَلِكَ ، قَالَ : قَدْ قَضَيْتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَيْهِ جِلْدَهُ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ہم نے انہیں غسل دیا، کفن دیا، انہیں خوشبو لگائی اور اسے جبرائیل علیہ السلام کی جگہ کے پاس رکھ دیا، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے، پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ چند قدم چل کر آئے، پھر آپ نے فرمایا: ”شاید تمہارے ساتھی کے ذمہ کچھ قرض تھا۔“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں، دو دینار تھے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑنے لگے، ہم میں سے ایک صاحب، جن کا نام ابوقتادہ تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”یا رسول اللہ! ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کی ادائیگی تمہارے ذمہ ہے اور تمہارے مال میں سے ہو گی، اور (وصول کرنے والے) شخص کا حق تمہارے ذمہ ہے، یہ مرحوم ان دونوں سے بری ہے۔“ تو سیدنا ابوقتادہ نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بھی سیدنا ابوقتادہ سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہی دریافت کیا: ”تم نے ان دو دیناروں کا کیا کیا؟“ آخر کار جب سیدنا ابوقتادہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا: ”یا رسول اللہ! میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب اس شخص کو ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے۔“