سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ كَزَالٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، نَا زَافِرٌ . ح وَنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا أَبُو حَامِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ أَحْمَدُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْوَصَّافِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " شَهِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً فَلَمَّا وُضِعَتْ قِيلَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ ، قَالَ : فَكَّ اللَّهُ عَنْكَ يَا عَلِيٌّ ، رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ عَنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ رِهَانَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً ؟ ، قَالَ : لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے، جب اسے رکھا گیا، تو بتایا گیا: اس کے ذمہ قرض ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے، تو سیدنا علی نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! میں اس کا ضامن ہوں، قرض دینے میں۔“ تو نبی نے فرمایا: ”اے علی! اللہ تمہاری ضرورتوں کو اسی طرح پورا کرے، جس طرح تم نے اپنے ساتھی مسلمان بھائی کی ضرورت کو پورا کیا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ حکم سیدنا علی کے ساتھ مخصوص ہے یا تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام اہل ایمان کے لیے عام ہے۔“