حدیث نمبر: 3081
ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ أَبُو أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ ، نَا أَبُو الْجَارُودِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " إِذَا دَفَعَ مَالا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ ، أَنْ لا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا ، وَلا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا ، وَلا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَا كَبِدٍ رَطْبَةٍ ، فَإِنْ فَعَلَهُ فَهُوَ ضَامِنٌ ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَازَهُ " ، أَبُو الْجَارُودِ ، ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب ایک شخص کو اپنا مال مضاربت کے طور پر دیتا، تو ساتھ یہ شرط عائد کی کہ وہ اس مال کو لے کر سمندر میں سفر نہیں کرے گا، اس کے ساتھ کسی (وادی (یعنی بے آب و گیاہ) جگہ پر پڑاؤ نہیں کرے گا، اس کے ذریعے کسی جاندار کو نہیں خریدے گا، اور اگر وہ ایسا کرے گا، تو وہ اس کا ضمان (تاوان) ادا کرے گا، پھر انہوں نے یہ شرط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی، تو آپ نے اسے درست قرار دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3081
درجۂ حدیث محدثین: لمنذر هذا في فضائل أهل البيت وهو من المعدودين من أهل الكوفة المغالين
تخریج حدیث «المنذر هذا في فضائل أهل البيت وهو من المعدودين من أهل الكوفة المغالين ، الكامل في الضعفاء: (4 / 132)»