سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ ، وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو خَالِدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ أَبُو وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : " أَلا أُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَوْ أَمَةً ، لا دَاءَ وَلا غَائِلَةَ ، وَلا خِبْثَةَ ، بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي الثَّلْجِ : فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا : " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أُمَّةً " ، شَكَّ عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ " لا دَاءَ بِهِ ، وَلا خِبْثَةَ ، وَلا غَائِلَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ ".ابوہب بیان کرتے ہیں: سیدنا عداء بن خالد نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ تحریر پڑھ کر سناؤں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھوائی تھی؟ (اس کے یہ الفاظ ہیں): ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: پھر انہوں نے میرے سامنے یہ تحریر نکالی: ”یہ (تحریر اس بارے میں ہے) عداء بن خالد نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام (راوی کو شک ہے شاید) کنیز کو خریدا (یہاں عباد نامی راوی کو شک ہے)، جس میں کوئی بیماری نہیں ہے، کوئی دھوکا نہیں ہے، کوئی خرابی نہیں ہے، یہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ سودا ہے۔“