حدیث نمبر: 3076
ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ الْكَاتِبُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، نَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، نَا أَبِي ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةَ ، الْمُحَاضَرَةِ ، وَالْمُلامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " ، قَالَ عُمَرُ : فَسَّرَهُ أَبِي : الْمُحَاضَرَةُ لا يَشْتَرِي شَيْئًا مِنَ الْحَرْثِ وَالنَّخْلِ حَتَّى يَوْنِعَ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ ، وَأَمَّا الْمُنَابَذَةُ فَيَرْمِي بِالثَّوْبِ وَيَرْمِي إِلَيْكُمْ مِثْلَهُ ، فَيَقُولُ : " هَذَا لَكَ بِهَذَا " ، وَالْمُلامَسَةُ يَشْتَرِي الْمَبِيعَ فَيَلْمَسَهُ لا يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ.
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ منع کیا ہے۔ عمر بن یونس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے اس کی وضاحت یوں کی ہے: مخاضرہ سے مراد یہ ہے کہ خریدار کسی کھیت یا کھجوروں کے باغ کو اس وقت تک نہیں خریدے گا، جب تک وہ سرخ یا زرد نہیں ہو جاتے (یعنی پیداوار پک نہیں جاتی)۔ منابذہ سے مراد یہ ہے کہ خریدار فروخت کرنے والے کی طرف اور فروخت کرنے والا خریدنے والے کی طرف کپڑا پھینکے گا اور کہے گا: یہ اس کے عوض میں تمہارا ہوا۔ ملامسہ یہ ہے کہ خریدنے والا سامان خریدے گا، حالانکہ اس نے سامان کو دیکھا بھی نہیں ہو گا۔ محاقلہ سے مراد زمین کرائے پر دینا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3076
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2207، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2357، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10691، 10692، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3076، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6203، 6434، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5571، 5950، 7320»