سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا أَبُو طَالِبٍ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجَهْمِ ، نَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ، نَا الْحُنَيْنِيُّ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا جَلَبَ وَلا جَنَبَ وَلا اعْتِرَاضَ ، وَلا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ إِذَا حَلَبَهَا بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ سَخِطَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " ، تَابَعَهُ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْمُصَرَّاةِ . حَدَّثَ عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ عِيسَى وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ شُعْبَةُ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جلب، جنب، اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہے، شہری شخص دیہاتی کے لیے کوئی سودا نہ کرے، اونٹنی یا بکری کا تصریہ نہ کیا جائے، جو شخص تصریہ والے جانور کو خرید لے اور اس کا دودھ دوہ لے، تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دے۔“ عاصم بن عبیداللہ نے سالم کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مصراة کے بارے میں اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے، ان کے حوالے سے داؤد بن عیسیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حسن بن عمارہ نے حکم کے حوالے سے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ ابوشیبہ نامی راوی نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ شعبہ نامی راوی نے اسے ایک صحابی کے حوالے سے (جن کا نام مذکور نہیں ہے) روایت کیا ہے۔