سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
حدیث نمبر: 3074
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ ، وَلا تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ ، فَمَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدُّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”شہری شخص، دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، مصنوعی بولی نہ لگاؤ، (اناج کے قافلے کے منڈی پہنچنے سے پہلے) اسے راستے میں نہ ملو، اونٹنی یا بکری کو فروخت کرنے کے لیے ان کا تصریہ نہ کرو، جو شخص اسے خریدے گا، اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، تو اپنے پاس رکھے اور اگر وہ واپس کرنا چاہے، تو اسے واپس کر دے اور ساتھ میں کھجور کا ایک صاع دے، گندم کا نہیں۔“